Sahir Lodhi Nai

Sahir Lodhi Nai Larki Kai Sath Kesi Harkat Kar Di

Related image

پاکستانی مارننگ شو انتہائی بیکار اور صرف وقت کا ضیاع ثابت ہوئے ہیں کیونکہ جہاں کچھ اچھا دیکھنے کو ملنا چاہئے وہاں صرف مرد اور خواتین ڈانس کرتی نظر آتی ہیں اور ایسی گفتگو بھی سنائی دیتی ہے جو غیر اخلاقی ہونے کیساتھ ساتھ بے شرمی سے بھی بھرپور ہوتی ہے۔

مارننگ شوز کے میزبان ناصرف کیمروں کے ساتھ بیٹھ کر لوگوں کیخلاف عجیب و غریب باتیں کرتے ہیں بلکہ اپنے پروگرام میں مختلف مشہور شخصیات کو بلا کر انتہائی عجیب و غریب اور گھٹیا سوالات بھی پوچھتے ہیں تاکہ ان کا پروگرام زیادہ سے زیادہ ریٹنگ حاصل کر سکے۔

پاکستانی اداکار اور میزبان ساحر لودھی نے تو اس معاملے میں تمام حدیں ہی پار کر دی ہیں اور اپنے پروگرام میں نوعمر بچیوں اور بچوں کیساتھ ایسی شرمناک حرکتیں کر رہے ہیں کہ پورا پاکستان چیخنے پر مجبور ہو گیا ہے۔

ساحر لودھی آج کل ”آپ کا ساحر ڈانس کمپی ٹیشن سیزن 2“ کی میزبانی کر رہے ہیں جس میں نوعمر لڑکیوں اور لڑکوں کے درمیان ڈانس کا مقابلہ کروایا جاتا ہے۔ شرمناک بات یہ ہے کہ اس مقابلے میں بھارتی گانوں پر ڈانس کروایا جا رہا ہے اور وہ بھی آئٹم نمبرز پر، جن کے الفاظ بے شرمی سے بھرپور ہوتے ہیں۔

اور اس مقابلے کیلئے منتخب کئے جانے والے گانوں کو لے کر ہی پورے پاکستان میں ہلچل برپا ہے اور ہر کوئی شدید تنقید کر رہا ہے۔ مثال کے طور پر ایک چھوٹی بچی کو بھارتی آئٹم سانگ ”چکنی چمیلی“ پر ڈانس کرنے کی ویڈیو منظرعام پر آئی تو پھر ایک اور گھٹیا گانے پر لڑکے اور لڑکی کو اکٹھے ڈانس کرتے دکھایا گیا۔

مکہ مکرمہ(آئی این پی)مکہ مکرمہ میں زمزم کے کنوئیں سے پانی نکلنے کا سلسلہ ہزاروں برس سے جاری ہے۔ دینی متون کے مطابق یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا جب کہ اس کے برعکس دنیا کا ہر پانی قیامت سے قبل معدوم ہو جائے گا۔زمزم کا پانی کہاں سے آتا ہے اور اس کا ذائقہ امتیازی نوعیت کا کیوں ہے ؟

ان سوالات کو العربیہ ڈاٹ نیٹ نے ڈاکٹر انجینئر یحیی کوشک کے سامنے رکھا جنہوں نے امریکا کی واشنگٹن یونیورسٹی سے انوئرمنٹل انجینئرنگ میںاسپیشلائزیشن کر رکھی ہے۔ وہ پانی کے امور کے پہلے سعودی ماہر اور زمزم کے کنوئیں کی تجدید کے منصوبے کے نگراں بھی ہیں۔

وہ زمزم کے کنوئیں کے بارے میں مستند علمی اور تاریخی معلومات کا ذخیرہ رکھتے ہیں۔ گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر کوشک نے واضح کیا کہ زمزم کے کنوئیں کے ظہور کا واقعہ ہم اچھی طرح جانتے ہیں۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اپنی زوجہ ہاجر اور شیرخوار بیٹے اسماعیل علیہ السلام کو اس ویران بیابان میں چھوڑا تو بچے کو پیاس لگی۔

اس موقع پر ماں نے صفا ور مروہ کے درمیان بے قراری میں دوڑ لگائی اور اپنے رب سے مدد مانگی۔ اللہ رب العزت نے جبریل علیہ السلام کو بھیجا جنہوں نے زمین اور پہاڑ کو اپنے پر سے ضرب لگائی۔ اس ضرب کو “ہزم جبریل” کا نام دیا جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں مکہ کے پڑوس میں واقع پہاڑوں کے دامنوں میں شگاف پڑ گئے۔

ان میں پانی کا ایک بہت بڑا ذخیرہ موجود تھا۔ڈاکٹر کوشک کے مطابق پہاڑوں کے اندر جمع شدہ پانی کنوئیں کے مقام تک پہنچ گیا جہاں شیرخوار حضرت اسماعیل کے قدموں کے نیچے سے پانی پھوٹ پڑا۔ یہ مقام خانہ کعبہ سے 21 میٹر کے فاصلے پر ہے التبہ اس وقت تک بیت اللہ تعمیر نہیں ہوا تھا۔

کوشک نے بتایا کہ یہ پانی چٹانوں کے تین شگافوں کے ذریعے کنوئیں میں جمع ہوتا ہے جو خانہ کعبہ کے نیچے اور صفا اور مروہ کی سمت پھیلی ہوئی ہیں۔کوشک کا کہنا ہے کہ زمزم کا پانی جنت سے نہیں آتا جیسا کہ لوگوں میں مشہور ہے۔زمزم کے پانی کے منفرد ذائقے کا راز بتاتے ہوئے کوشک کا کہنا تھا کہ اس کا تعلق پانی کے مخصوص سمتوں سے معینہ چٹانوں کے ذریعے گزرنے سے ہے۔

کوئی بھی پانی جو ان مقامات سے پھوٹے گا اور کنوئیں کی گہرائی میں گرے گا وہ آب زمزم جیسے ذائقے اور خصوصیات کا حامل ہو گا۔آب زمزم کے 60 سے زیادہ نام ہیں۔ ان میں مشہور ترین نام زمزم ، سقیا الحاج ، شراب الابرار ، طیب ، بر ، برک اور عافیہ ہیں۔ مکہ مکرمہ کے لوگ قدیم زمانے سے ہی اپنے مہمانوں کے اکرام کے لیے ان کا استقبال آب زمزم سے کیا کرتے تھے۔

اس پانی کو مٹی کی صراحیوں میں مصطگی کے گوند کی دھونی دے کر مہمانوں کو پیش کیا جاتا تھا۔ اس مہک کے سبب یہ پینے والوں کو زیادہ محبوب ہوتا تھا۔ مکہ مکرمہ میں یہ رواج آج بھی باقی ہے جب کہ ماہ رمضان میں افطار کے دسترخوانوں پر کھجور کے ساتھ صرف آب زمزم ہی پیش کیا جاتا ہے۔

مکہ کے رہنے والوں کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کے مردوں کو تدفین سے قبل آب زمزم سے غسل دیا جائے۔ علاوہ ازیں ہر حاجی اور معتمر اس کو اپنے وطن میں موجود عزیز و اقارب کے واسطے بطور ہدیہ لے کر لوٹتے ہیں۔

ایسی ہی ایک حماقت کولمبیا میں ایک خاتون نے کر ڈالی جو غیر مردوں سے فون پر الٹی سیدھی گفتگو کرتی رہی ۔ جس کا اس کے خاوند کو پتہ چل گیا ۔اس پر خاوند نے انتہائی غصے میں آکر ایسا اقدام کر ڈالاکہاہلیان مغرب ڈیرہ اسماعیل خان جیسے واقعات پر ہمیں طنز کا نشانہ بنانا چھوڑ دیں گے۔

خاوند نے اپنی بیوی کو صرف ایک تولیہ اوڑھنے کو کہا اور اس کو گلیوں میں گھماتے ہوئے اس کی ویڈیو بنانے لگا۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہوتی اس ویڈیو میں نیم برہنہ حالت میں آگے آگے چلتی خاتون اور اس کے خاوند کی گفتگو کو بھی سنا جا سکتا ہے۔

خاوند اپنی بیوی کو کہتا سنائی دیتا ہے۔ ” آگے بڑھتی رہو۔ شاباش۔ لوگوں کو پتہ چلے کہ میری بیوی کتنی خوبصورت ہے۔ یہ تولیہ اتار پھینکو ، تاکہ لوگ تمھیں دیکھیں اورتم اس بے شرمی کی قیمت ادا کرسکو جو تم نے کی۔ میں نے تمھارے ساتھ گھر بسانا چاہا تھا اور تم نے سات مردوں کے ساتھ دوستیاں قائم کر رکھی تھیں۔

” اس پر خاتون نے جواب دیا کہ ” اس سے کیا فرق پڑتا ہے ؟ میرے ان سے کوئی جسمانی تعلقات نہیں تھے” اس پر مرد نے جواب دیا ۔” ہاں لوگوں کے ساتھ بوس و کنار کی باتیں کرنا، پیار کی باتیں کرنا جسمانی تعلق نہیں ہے۔

اس کا فیصلہ وہ لوگ کریں گے جو اس ویڈیو کو دیکھیں گے” خاتون انتہائی بوکھلاہٹ اور شرمندگی کی حالت میں جسم پر صرف ایک تولیہ لپیٹے چل رہی ہے۔

بعدازاں جن کا ٹھکانہ کوئی قحبہ خانہ یا کسی خریدار کی قید ہوتا ہے۔ ایسی ہی ایک لڑکی نے فوکس نیوز کو اپنی روح فرسا داستان سناتے ہوئے بتا یا ہے کہ ”مجھے ایک شخص نے پرکشش نوکری کا لالچ دیا اور شمالی کوریا سے چین لے آیا۔ یہاں لا کر اس نے مجھے ایک معذور شخص کے ہاتھ فروخت کر دیا جس نے زبردستی مجھ سے شادی کر لی۔“

لڑکی کا کہنا تھا کہ ”جب 11سال قبل میں چین آئی تو میرے دو بچے تھے جنہیں میں شمالی کوریا میں ہی چھوڑ آئی۔ اب اتنے سال ہو گئے میں یہاں اس قید میں ہوں۔ میں خوف کے مارے گھر سے باہر بھی نہیں نکل سکتی کہ چینی پولیس مجھے گرفتار کر لے گی اور واپس شمالی کوریا بھیج دے گی جہاں ایک اذیت ناک زندگی میری منتظر ہو گی۔

یہاں چین میں میرے ہمسائے بھی میرے غیرملکی ہونے کی وجہ سے مجھ سے شدید نفرت کرتے ہیں۔ اپنی تکالیف سے زیادہ مجھے اپنے بچوں سے بچھڑ جانے کا دکھ ہے جنہیں میں اس امید پر چھوڑ کر آئی تھی کہ اچھی نوکری ملنے پر کسی طرح انہیں بھی یہاں بلا لوں گی۔“

فوکس نیوز کے مطابق شمالی کوریا کی ایسی ہزاروں لڑکیاں ہیں جو بیرونی ممالک ، بالخصوص چین میں اذیت ناک زندگی گزار رہی ہیں۔ ان میں سے اکثر کے بچے شمالی کوریا میں موجود ہیں لیکن وہ یہاں قیدیوں جیسی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔انسانی سمگلر ان خواتین کو ورغلا کر لاتے ہیں اور پھر 14ہزار یوآن (تقریباً 2لاکھ 32ہزار روپے)تک کی قیمت میں انہیں فروخت کر دیتے ہیں۔

ویب سائٹ ورلڈ وائرڈ ویئرڈ نیوز کے مطابق 38 سالہ پادری ادیدایو ادی یامو کے پیروکار یہ سن کر